ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / ویاپم گھوٹالہ: ایک مجرم کو 10 سال، باقی 30 کو 7 سال کی سزا

ویاپم گھوٹالہ: ایک مجرم کو 10 سال، باقی 30 کو 7 سال کی سزا

Mon, 25 Nov 2019 23:27:43    S.O. News Service

بھوپال،25نومبر(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا) مدھیہ پردیش میں 2013 میں ہوئے پولیس بھرتی گھوٹالہ (ویاپم) میں مجرم پائے گئے لوگوں کو سزا سنا دی گئی ہے۔مجرم پائے گئے 31 لوگوں میں سے 30 کو سال سال قید اور ایک مجرم کو 10 سال قید کی سزا سنائی گئی ہے،ان تمام ملزمان کو سی بی آئی کی خصوصی عدالت نے 21 نومبر کو مجرم قرار دیا تھا۔بتا دیں کہ پہلے ویاپم کاروباری امتحان منڈل تھا جسے اب ’پروفیشنل ایگزامنیشن بورڈ‘کیا جا چکا ہے۔جنوری، 1970 میں ویاپم کے سفر کی شروعات ہوئی تھی،اسے پہلے پری میڈیکل ٹیسٹ بورڈ کے نام سے جانا جاتا تھا۔اس کا قیام طبی امتحانات کو منظم کرنے کے لئے کیا گیا تھا۔سال 2000-12 کے درمیان پورے مدھیہ پردیش میں تقریبا 55 کیس دائر کئے گئے، جن میں امتحان دینے والے کی جگہ کسی اور نے امتحان دیا۔7 جولائی، 2013 کو پہلی بار گھوٹالے کا معاملہ رسمی طور پر سامنے آیا۔اندور کی کرائم برانچ نے 20 ایسے لوگوں کے خلاف معاملہ دائر کیا۔ان معاملات میں امتحان دینے والے طالب علم کی جگہ کسی اور نے امتحان دیا۔16 جولائی، 2013 کو گھوٹالے کا ماسٹر مائنڈ سمجھا جانے والا جگدیش ساگر پولیس کی گرفت میں آیا۔26 اگست، 2013 کو ویاپم گھوٹالے کی جانچ ایس ٹی ایف کو سونپ دی گئی،9 اکتوبر، 2013 کو 3 ماہ پہلے پری میڈیکل ٹیسٹ کا امتحان پاس کرنے والے 345 طالب علموں کا رزلٹ منسوخ کر دیا گیا،18 دسمبر، 2013 کو مدھیہ پردیش کے سابق وزیر تعلیم لکشمی کانت شرما پر مقدمہ درج کیا گیا،20 دسمبر، 2013 کو اس وقت کے بی جے پی نائب صدر اوما بھارتی نے معاملے کی سی بی آئی جانچ کا مطالبہ کیا۔


Share: